kalonji moot k siwa her marz ka ilaj

Kalonji Moot k Siwa Her Marz ka ilaj

مختلف نام:
 
شونیز، جستہ السودا، اور بلک کروے، نایجیلا ستویا، کرشن جیرک، بلک کیومن۔ سنگریلا۔
 
تاریخ:
 
کلونجی کے پودے کی اصل جاے پیداش روم ہے۔ اور اس کے آثار مصر کے مختلف علاقوں سے آثارے قدیمہ اور احرام مصر سے بھی دریافت ہوا ہے جس میں توتخ آمن کا مقبرہ بھی شامل ہے۔ سونیز اور جستہ السوداء کے نام سے پرانی عربی کتابوں میں کلونجی کا زکر ملتا ہے۔ اور چونکہ اس کی اصل جاے پیداش روم ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کے قدیم یونانی اطباء اس سے بخوبی واقف تھے اور انہی سے اس کا علم عرب اظباء نے سیکھا۔ ہندوستان میں یہ ایک خدرو پودا ہے یا پھر اس کی کاشت کی جاتی ہے جناچہ ہماچل پردیش اور آسام میں اس کی کاشت ہوتی ہے۔ مشرقی اترپردیش میں کلونجی کو سنگریلا کہا جاتا ہے اور اسے گیڑوں سے گنے کے کھیتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کھیت کے اطراف ایک قطار کی صورت ڈالا جاتا ہے۔ اس عمل سے گیڈر کھیت میں داخل نہیں ہوتے۔ 
آیورویدک کتابوں میں اس کا نام “کرشن جیرک” لکھا ہے۔ جس کے معنی ذیرہ سیاہ ہوتے ہیں لیکن اس سے کلونجی کا کوءی تعلق نہیں۔ 
بخاری اور مسلم میں ہدیس ہے کلونجی میں سواے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔
 
 
ماہیت: 
 
کلونجی کا پودا ۴۵ سینٹی میٹر اونچا ہوتا ہے۔ پتے ۲ سے ۴ سینٹی میٹر لمبے اور دو یا تین حصوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ پھال اس کے ہلکے نیلگوں اور چھوٹے ہوتے ہیں جن میں آٹھ پنکھڑیاں ہوتی ہیں۔ اکثر شہد کی مکھی ان سے رس حاصل کرتی ہے۔ تخم [بیج] تکونے سیاہ رنگ کے، تیز بواور تلخ مزہ کے ہوتے ہیں۔ 
 
مزاج:
 
کلونجی کا مزاج گرم و خشک ہوتا ہے۔ اگر گرم اور خشک مزاج والے استعمال کریں تو اس کے ساتھ سرد و تر چیز لیں۔
 
افعال:
 
محلّل و کاسر ریاح، مدر حیض ا مقوی اعصاب ہونے کی وجہ سے کلونجی کو نفخ شکم، درد شکم، قولنج، استسقاء، احتباس حیض، ضعف اعصاب، ضعف دماغ، نسیان، فالج، رعشہ جیسے امراض میں استعممال کیا جاتا ہے۔ 
 
استعمال:
 
نفخ شکم کے لیے ۱گرام سفوف کلونجی پانی کے ساتھ استعال کریں-
احتباس حیض کےلیے کلنجی کو کوٹ کے پانی میں یبال لیں اور وہ پانی یستعمال کریں۔
اعصابی طاقت کے لیے ۲ گرام کلونجی کا سفوف بنا کر شہد میں ملا کر روزانہ صبح نہار منہ استعمال کریں۔
کلونجی کا تیل اگزیما اور سوراسس ک لیے استعمال ہوتا ہے۔
دانتوں اور مسوڑوں کے لیے کلونجی کو سرکہ میں ملا کر استعمال کاریں۔
دمہ، کھانسی یا الرجی میں ایک پیالی گرم پانی میں ۱ چمچہ شہد اور آدھا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو کھانے کے بعد استعمال کریں۔
زیابیطس میں ۱ پیالی کہوہ میں آدھا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر استعمال کریں
دل کے تمام امراض میں ایک پیالی بکری کے دودھ میں آدھا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر استعمال کریں
جوڑوں کے درد میں ۱ چمچمہ سرکہ ، ۲ چمچ شہد اور آدھا چمچ کلونجی کا تیل ملا کر مالش کریں
یاداشت بڑھانے کے لیے ۱۰ گرام تازہ پودینا ایک پیالی پانی میں ابال کر آدھا چمچ کلونجی کا تیل ملا کر کے استعمال کریں

Leave a Reply

Shopping cart