Sciatica

Sciatica عرق النساﺀ Irq Un Nisa

What is Sciatica عرق النساﺀ Irq Un Nisa ?

The term sciatica describes the symptoms of leg pain—and possibly tingling, numbness, or weakness—that originate in the lower back and travel through the buttock and down the large sciatic nerve in the back of each leg.

Sciatica Nerve Pain
Sciatica is often characterized by one or more of the following symptoms:

  • Constant pain in only one side of the buttock or leg (rarely in both legs)
  • Pain that is worse when sitting
  • Leg pain that is often described as burning, tingling, or searing (versus a dull ache)
  • Weakness, numbness, or difficulty moving the leg, foot, and/or toes
  • A sharp pain that may make it difficult to stand up or walk
  • Pain that radiates down the leg and possibly into the foot and toes (it rarely occurs only in the foot)
  • Sciatic pain can vary from infrequent and irritating to constant and incapacitating. Symptoms are usually based on the location of the pinched nerve.

عرق النساء ! جسم کی سب سے لمبی عصب کا درد
دور جدید میں شیاٹیکا (عرق النساء) کا درد عام ہو چکا ہے ۔ اس درد میں زیادہ تر خواتین مبتلاء ہوتی ہیں ، اسی لیے اسے عرق النساء کہا جانے لگا۔ اسی نام کی وجہ سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ مرد اس تکلیف میں مبتلاء نہیں ہوتے ۔ ایسا نہیں ہے ، مرد بھی اس درد کا شکار ہوتے ہیں مگر خواتین کی نسبت ان کی تعداد کم ہے ۔ یہ درد پیٹرو(Pelvis)سے شروع ہونے والی ایک عصب(Nerve)شیاٹیکا (Sciatic)میں جنم لیتا ہے ۔ یہ انسانی جسم میں پائی جانے والی سب سے لمبی عصب ہے ۔ یہ ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر پیر کی ایڑی تک جاتی ہے ۔

دردعموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے اور اس کی شدت کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے ۔ تکلیف میں مبتلاء مریض مسلسل بے چینی کا شکار رہتا ہے ۔ بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہوجاتی ہے اور مریض کے لیے اس پر بوجھ ڈالنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ متاثرہ ٹانگ میں کمزوری محسوس ہوتی ہے ۔ اکثر ٹانگ سن ہوجاتی ہے ، بیٹھے اور کھڑے رہنے سے بھی درد کی شدت بڑھتی ہے ۔

اس درد کا خطرہ عموماً درمیانی عمر میں زیادہ ہوتا ہے
کمرکو شدید جھٹکا لگنے ، ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے ، مہروں کے درمیان خلا کم یا زیادہ ہونے ، کولہے کے پٹھوں کی سوزش، قبض، بہت زیادہ بوجھ اُٹھانے ، اعصابی تناؤ، مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹے رہنے ، کسی حادثے کے باعث، غرض وہ تمام عوامل جو شیاٹیکا عصب پر بوجھ ڈالیں اور تناؤ کا باعث بنیں ، وجہ درد بن سکتے ہیں ۔ عمر کے ساتھ ہونے والی جسمانی توڑ پھوڑ بھی اس میں اضافے کا سبب بنتی ہے ۔ نیز اونچی ایڑی پہننے والی خواتین ، نرم گدوں پر سونے والے اور فربہ لوگ بھی اس درد کا شکار آسانی سے ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی شیاٹیکا عصب پہ مسلسل دباؤ پڑتا رہتاہے ۔

شیاٹیکا کا مریض عموماً ٹانگ گھسیٹ کر چلتا ہے ۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل بھی پڑجاتا ہے اور نسیں اکٹر جاتی ہیں ۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو اُسے ناقابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے ۔

عرق النساء کے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے ، اتنا ہی پرہیز اور احتیاط بھی درکار ہے ۔ دوا، پرہیزاور احتیاط سے عموماً چھ ہفتوں میں مریض صحت یاب ہوجاتا ہے ۔ سب سے پہلے تو مریض کو اپنے اُٹھنے، بیٹھنے ، چلنے اور سونے کے طریقے بدلنے چاہئیں ۔ مثال کے طور پر وہ بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتا رہے ۔ زیادہ دیر کھڑے ہونے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز کرے ۔
عرق النساء سے چھٹکارا پانے میں غذا کا کردار بہت اہم ہے ۔ مریض ایسی غذا کھائے جو غذائیت سے بھرپور ہو اور خصوصاً اُسے قبض سے بچائے ۔ اس بیماری کے باعث شیاٹیکا عصب پر مزید دباؤ پڑتا ہے ۔ کیلشیم و وٹامن سے بھرپور غذا اعصاب اور پٹھوں کو تقویت بخشتی اور درد سے بچاتی ہے ۔ پوٹاشیم بھی پٹھوں میں لچک پیدا کرنے میں معاون بنتا ہے ۔ چنانچہ دھی ، دلیہ ، مغزیات، پھل اور تازہ سبزیاں اپنی غذا میں شامل رکھیے ۔ گاجر اور چقندر کا رس نوش کیجئے ۔ یہ شیاٹیکا سے جلد نجات دلانے میں مدد کرے گا ۔ پانی خوب پئیں ۔ اس مر ض میں غلط ورزش درد بڑھادیتی ہے ۔

 

Buy Atica